Tuesday, April 26, 2022

رب دا روپ

                     رب دا روپ

صبح ساڑھے پانچ بجے سیر کے لئے نکل جانا میرا معمول ہے اور شام کو بھی سات بجے اسی کام سے نکلتا ہوں ۔ پچھلے کئی روز سے ایک شخص مجھے سیر کے دوران ملتا ہے اور بڑی محبت سے سلام کرتا ہے ۔میں بھی اسی محبت سے اسے جواب دے دیتا ہوں۔میں اسے نہیں جانتا کہ وہ کون ہے۔ مجھے اس کالونی میں رہتے ہوئے تقریبا" دس سال ہو چکے ہیں اور کم و بیش ہر ملنے والے بندے کو پہچانتا ہوں کہ وہ کون ہے اور کہاں رہتا ہے۔ حلیے سے مجھے وہ کسی بنگلے کا ملازم لگتا ہے۔اکثر بوسیدہ سی پینٹ قمیض میں ملبوس ہوتا ہے اور ماسک لگا کے رکھتا ہے
مجھے بسا اوقات یہ تجسس رہتا ہے کہ یہ کون ہے جو بغیر کسی غرض کے اپنا سلام جاری رکھے ہوئے ہے

کل شام افطار کے بعد جب میں حسب معمول سیر کے لئے نکلا تو کمرشل ایریا سے ذرا آگے وہ مجھے ملا سلام کیا اور ذرا دیر کے لئے رکا۔ مجھے ایسے لگا کہ شاید وہ کوئی بات کرنا چاہ رہا ہے ۔میں رک گیا۔ میں نے پوچھا کیا نام ہے تمہارا۔ کہنے لگا محمد حسین۔میں نے پوچھا کہاں رہتے ہو۔ کہنے لگافلاں نمبر میں ۔ابھی میں سوچ ہی رہا تھا کہ یہ گھر نمبر کس طرف پڑے گا تو وہ پھر بولا کہ ہم لوگ کچھ دنوں میں اپنے گاوں چلے جائیں گے  ۔میں نے پوچھا تمہارا گاوں کدھر ہے۔ اس نے کہا فیصل آباد سےنکل کر جھنگ روڈ پر۔ جھنگ کا نام سن کر میں خیالوں میں کھو گیا۔کیونکہ میرا اپنا ایک تعلق اور رشتہ جھنگ سے ہے۔میرا بچپن اور نوجوانی جھنگ میں ہی گزری ہے

میں نے ساری زندگی گورنمنٹ سروس میں گزاری ہے اور بیسویں گریڈ سے ریٹائر ہونے کے بعد اس کالونی میں رہائش پذیر ہوں۔اپنے آپ کو بڑا زیرک سمجھتا ہوں۔

میں نے اسے پھر غور سے دیکھا۔ اس نے ماسک نیچے کر لیا تھا۔ اس کے ہاتھ میں ایک چھوٹی سی تھیلی تھی اور وہ کچھ کھائے چلا جا رہا تھا  ۔ کھانے کے کچھ ذرات اس کی وراچھوں پر لگے ہوئے تھے۔میں نے پوچھا کہ ہاتھ میں کیا ہے  ۔ کہنے لگا ادھر سے پکوڑے لئے تھے۔ مجھے یہ سمجھ لینے میں کچھ تامل نہ ہوا کہ یہ شخص کسی بنگلے میں ملازم ہے اور وقت بے وقت باہر نکل آتا ہے۔اس کی دماغی حالت بھی مجھے کچھ ٹھیک نہ لگی۔اپنے لباس سے بھی وہ نوکر ہی لگ رہا تھا  میں نے اسے کہا اچھا پھر ملاقات ہو گی اور میں اپنی سیر پر روانہ ہوگیا۔  اور دل میں سوچ لیا کہ کسی دن اس کے بتائے ہوئے گھر پہ جا کر اس کی دماغی حالت کا پوچھوں گا ۔

ابھی میں کوئی ایک کلو میٹر چلا ہوں گا کہ ایک گھر کے باہر مجھے وہ شخص نظر آیا۔ پہلے تو اس نے مین گیٹ کھولنے کی کوشش کی پھر مڑ کر گاڑی جو گیٹ کے باہر کھڑی تھی  اس کے دروازے کو چھیڑا۔ مجھے لگا ہو نہ ہو یہ شخص چوری کی نیت سے یہاں پھر  رہا ہے۔ مجھے دیکھ کر وہ سرعت سے میری طرف آیا اور کہنے لگا سر یہی وہ گھر ہے جہاں میں رہتا ہوں ۔اپنے دو بھائیوں کے ساتھ  اور یہ گاڑی جو باہر کھڑی ہے میری بھابی کی ہے۔ دوسری ہنڈا اندر کھڑی ہے

میں شرمندہ سا ہو کر ہاتھ ملا کر آگے بڑھ گیا کیونکہ وہ شخص میرے گھر سے بڑے گھر میں قیام پذیر تھا سوچنے میں ہم لوگ انتہائی کم ظرف واقع ہوئے ہیں اور ظاہری طور پہ نظر آنے والوں کو حقیر سمجھ لیتے ہیں جبکہ یہ لوگ رب کا روپ لئے پھر رہے ہوتے ہیں



پرویز اے سانکھلا