یادوں کے جھروکے سے
ہیر وارث شاہ کی گائیکی میں مختلف ادوار میں بڑے لوگوں نے طبع آزمائی کی ہے۔ مجھے یہ بتانے میں انتہائی فخر محسوس ہوتا ہے کہ میرے والد "گلستان حنیف" کے بانی چوہدری محمد حنیف ہیر کی گائیکی میں اپنا ایک مقام رکھتے تھے۔
میرے بچپن کا زمانہ تھا جب ہم بڈھے محلے والے مکان کی چھت پر سویا کرتے تھے ۔ہمارے اردگرد لدھیانہ سے آئے ہوئے پارچہ باف لوگ یعنی جولاہے آباد تھے۔ ایک رات ہم لوگ سونے کے لئے چھت پر چارپائیوں پر لیٹے ہوئے تھے کہ ساتھ والی چھت سے کسی کی ہیر کے گانے کی آواز آنے لگی۔ میرے والد صاحب نے فوری طور پر بلند آواز میں کہا کہ پورے پنجاب میں مجھ سے بہتر کوئی شخص ہیر نہیں گا سکتا۔ اور یہ کوئی چھتوں پہ گانے والا کلام نہیں۔ اس پر ان لوگوں نے گانا بند کر دیا
میں نے والد صاحب کو گاتے ہوئے خود سنا ہے۔ شائد 1957 کا ذکر ہے مجھے والد صاحب کے ساتھ بستی ملوک اپنے خالہ زاد بھائی اکرام اللہ کی شادی پر جانے کا اتفاق ہوا۔ بارات 18 چک گئی تھی۔ ان دنوں بارات ہمارے رواج کے مطابق 3 دن قیام کرتی تھی۔ ایک رات تمام باراتیوں نے والد صاحب سے گانے کی فرمائش کر دی۔ آج بھی ابا جان کی خوبصورت آواز میرے کانوں میں گونج رہی ہے۔ انہوں نے اقبال بانو کا مشہور زمانہ گانا سنایا تھا " پریشاں رات ساری ہے ستارو تم تو سو جاو "
پرویز اے سانکھلا
