Friday, August 5, 2022

یادوں کے جھروکے سے

 یادوں کے جھروکے سے  

ہیر وارث شاہ کی گائیکی میں مختلف ادوار میں بڑے لوگوں نے طبع آزمائی کی ہے۔ مجھے یہ بتانے میں انتہائی فخر محسوس ہوتا  ہے کہ میرے والد "گلستان حنیف" کے بانی چوہدری محمد حنیف ہیر کی گائیکی میں اپنا ایک مقام رکھتے تھے۔
میرے بچپن کا زمانہ تھا جب ہم بڈھے محلے والے مکان کی چھت پر سویا کرتے تھے  ۔ہمارے اردگرد لدھیانہ سے آئے ہوئے پارچہ باف لوگ یعنی جولاہے آباد تھے۔ ایک رات ہم لوگ سونے کے لئے چھت پر چارپائیوں پر لیٹے ہوئے تھے کہ ساتھ والی چھت سے کسی کی ہیر کے گانے کی آواز آنے لگی۔ میرے والد صاحب نے فوری طور پر بلند آواز میں کہا کہ پورے پنجاب میں مجھ سے بہتر کوئی شخص ہیر نہیں گا سکتا۔ اور یہ کوئی چھتوں پہ گانے والا کلام نہیں۔ اس پر ان لوگوں نے گانا بند کر دیا
میں نے والد صاحب کو گاتے ہوئے خود سنا ہے۔ شائد 1957 کا ذکر ہے مجھے والد صاحب کے ساتھ بستی ملوک اپنے خالہ زاد بھائی اکرام اللہ  کی شادی پر جانے کا اتفاق ہوا۔ بارات 18 چک گئی تھی۔ ان دنوں بارات ہمارے رواج کے مطابق 3 دن قیام کرتی تھی۔ ایک رات تمام باراتیوں نے والد صاحب سے گانے کی فرمائش کر دی۔ آج بھی ابا جان کی خوبصورت آواز  میرے کانوں میں گونج رہی ہے۔ انہوں نے اقبال بانو کا مشہور زمانہ گانا سنایا تھا " پریشاں رات ساری ہے ستارو تم تو سو جاو "

پرویز اے سانکھلا

Thursday, June 2, 2022

پیا رنگ کالا سے اقتباسات

 بابا محمد یحییٰ کی کتاب

     پیا رنگ کالا        
سے چند اقتباسات   

گرفت میں آئی ہوئی مچھلی،  دروازے پہ پہنچی ہوئی روزی اور راہ میں پڑا ہوا درویش اگر ہاتھ سے نکل جائیں تو پھر" کار جہاں دراز ہے اب اس کا انتظار کر " اب مصرعہ زیر لب دہرانے کا بڑا لطف آتا ہے

ماں محبوب اور مرقد کی گود بڑی گداز ہوتی ہے۔ مزہ آ جاتا ہے اور حشر تک پڑے رہنے کو جی چاہتا ہے

بچہ بوڑھا ، بیمار اور بدمعاش اول تو سوتے نہیں اور اگر کسی مجبوری یا معذوری سے سو جایئں تو پھر انہیں کوئی جگاتا نہیں کہ ان کا سویا پڑا رہنا ان کے جاگنے سے بدرجہا بہتر اور افضل ہوتا ہے

اصل رشتہ تو باپ کی پشت کا ہوتا ہے ماں کی پشواز کا رشتہ بتاشے کی مانند ہوتا ہے جس سے منہ تو میٹھا ہوتا ہےمگر پیٹ نہیں بھرتا چاہے ٹوکرا بتاشے توڑ لو

درویش وہ ہے جو ہر قسم کی صورت حال درپیش ہونے پہ بیساختہ الحمدللہ کہے اور راضی بہ رضا ہو کر اسے تسلیم کر لے۔جو بھی سر پہ پڑ جائے اسے مشیت ایزدی جانے
جے سوہنا میرے دکھ وچ راضی ، میں سکھ نوں پانواں چلہے

جس مالک و خالق نے مجھے یہ انعام بخشا ہے وہ اس کی پرورش، صحت، زندگی اور میری عمر و بڑھاپے کے بارے میں بھی بہتر جانتا ہے اور خوب اچھے فیصلے کرنے والا ہے

صاحب علت صاحب عزت نہیں ہو سکتا
پیتل سکھ دے تو سونے کا کھوجن کس کارن،  سونا پڑا رہے تو مٹی ہے،  بندھ جائے تو سنگھار۔ پیٹ پڑے تو روٹی یے۔ سوکھی روٹی کا ایک ٹکڑا سونے کے پہاڑ پہ بھاری ہے۔ اگر بھوک سچی ہو سونے کی سلطنت ایک سانس کے سامنے کوئی حیثیت نہیں رکھتی اگر جان بچتی ہو

ہر وقفہ لقمہ میں الحمدللہ کہنا رازق سے رزق وصول کرنے کی شکر گزاری ہے

اصل کام تو مالک جس حال میں رکھنا پسند کرے اس پر مطمئن رہنا اور اس پر صبرو شکر کرنا ہے

جس علم و ہنر کا استعمال اور اظہار و اثرات اللہ کی مخلوق خاص پہ بنی نوع انسان کے لیے ضرر رساں اور معاشرے میں بگاڑ پیدا کرتے ہوں یا نظام حیات کے کسی شعبے میں غیر متوازن طرز عمل اور نفی طرز فکر کو فروغ دینے میں ممد ثابت ہوتے ہوں ایسے علم و ہنر کے اظہار سے اجتناب برتنا چاہئیے

انسان جب اندر سے سکون پکڑ لیتا ہے تو اسے باہر کی کچھ خبر و خواہش نہیں رہتی

جو رزق پانی،تعلق تصرف صحبت محبت حرکت و عمل علم پیشہ تجارت آپ کو اطمینان قلب۔ ذوق عبادت اور شوق شرافت سے آشنا کرائے وہی اللہ کی مشیت و رضا اس کا اجرو انعام اور فضل و کرم ہے اور جو مشاغل حیات اور اعمال ذات آپ کے اندر تکدر تکبر و تفاخر پیدا کریں اللہ اور اللہ کی مخلوق سے دور اور بیگانہ کر دیں چہرے کا نور دل کا سکون چھین لیں خوف خدا اور شرم و حیا سے بے بہرہ کر دیں وہ سب خدا کا قہر اور عذاب ہیں۔

پرویز اے سانکھلا 

Saturday, May 14, 2022

لاہور پرانے ادیبوں کی نظر میں

 کرشن چندر روزانہ داتا صاحب کو سلام کرکے گزرتے، اپنا پتہ" داتا کے سائے میں" بتاتے. مولانا صلاح الدین احمد، باری علیگ اور عاشق بٹالوی کے ساتھ گپ شپ کرتے انارکلی سے گزرتے تین گھنٹے لگ جاتے. کرشن کا پہلا افسانہ" سادھو" 1929 میں ایف سی کالج میگزین" فولیو" میں چھپا. علامہ اقبال پر پی ایچ ڈی کرنا چاہتے تھے سناپسس بھی پیش کیا لیکن یہ کہہ کر اجازت نہیں دی گئی کہ زندہ شخصیت پر نہیں ہوسکتی. کرشن کہتے تھے  لاہور میں رہ کر کوئی بوڑھا نہیں ہوسکتا، ہوتا ہے تو منڈی بہاء الدین، بستی چھپڑاں والا یا چک 420 چلاجائے. جے ایس سنت سنگھ قرآن مجید چھاپتے تھے. ان کی دکان میں جوتے اتار کر جانا پڑتا تھا. احمد راہی کا مجموعہ"ترنجن" چھپا تو کرشن نے پنجابی میں مبارک باد کا خط لکھا اور کہا کہ پنجابی رسالہ نکلنا چاہیے، وہ بھی پنجابی میں لکھیں گے. کرشن لاہور میں بھگت سنگھ کی سوشلسٹ پارٹی کے رکن اور بھنگیوں کی انجمن کے صدر بھی بنے. 


راجندر سنگھ بیدی کہتے تھے عشق کیلئے لاہور سے بہتر دنیا میں کوئی اور جگہ نہیں. وہ بچپن میں قتل ہوتا دیکھ کر گونگے ہوگئے تھے. پھر ایسا بھی ہوا کہ ایک انقلابی پارٹی کے بچوں کے شعبے بال سبھا کے رکن بنے تو ان کو ایک انگریز کے قتل کا مشن دے دیا گیا لیکن ان سے ہو نہیں سکا. بیدی نے ادبی زندگی کا آغاز محسن لاہوری کے نام سے کیا. ڈاک خانے میں کلرک ہوئے تو کام کے دوران کہانیاں لکھتے رہتے. ایک بار رقم وصول کئے بغیر منی آرڈر بک کردیا. شام کو حساب کیا تو تنخواہ جتنے پیسے شارٹ تھے. ایڈریس نوٹ کرکے اس دن منی آرڈر کرنے والے ہرشخص کے گھر گئے. مطلوبہ شخص ملا تو اس نے کہا، سردار جی آپ کے سارا دن بارہ بجے رہتے ہیں. منٹو نے ایک افسانے میں ڈاک خانے میں مہریں لگانے کی طرف اشارہ کرکے بیدی پر چوٹ کی تو بیدی اور دیندر ستھیارتھی نے افسانے میں منٹو کا ریکارڈ لگا دیا.


کنہیا لال کپور پیدا تو سمندری میں ہوئے تھے، پڑھنے لاہور آئے. قد بہت لمبا تھا. داخلے کے انٹرویو کیلئے پرنسپل پطرس بخاری کے سامنے پیش ہوئے تو انہوں نے پوچھا، اتنے ہی لمبے ہیں یا آج خاص اہتمام کرکے آئے ہیں؟ بعد میں وہ پطرس کے چہیتے شاگرد بن گئے. بالآخر جب لاہور چھوڑنا پڑا تو  کپور کو بھارتی پنجاب کے چھوٹے سے قصبے موگا میں پناہ ملی جہاں کے لینڈ سکیپ میں ریت اور سرکنڈے نمایاں تھے. لوگ کہتے آپ مشہور آدمی ہیں، اس ویرانے سے کسی بڑے شہر کیوں نہیں چلے جاتے تو کہتے، جب تک ہندوستان لاہور کا ثانی پیدا نہیں کرتا، میرے لئے یہاں کے تمام شہر اور قصبے ایک جیسے ہیں.

کرشن چندر، راجندر سنگھ بیدی، کنھیا لال کپور تینوں لاہور کی ادبی زندگی میں سرگرم رہے، تینوں کی پہلی کتابیں لاہور سے چھپیں. تینوں لاہور کی یاد میں تڑپتے رہے، تینوں لاہور کو پھر دیکھنے کی حسرت لئے چل بسے.

پرویز اے سانکھلا 

محمود الحسن کی کتاب لاہور شہر پر کمال  سے ماخوذ 

Tuesday, April 26, 2022

رب دا روپ

                     رب دا روپ

صبح ساڑھے پانچ بجے سیر کے لئے نکل جانا میرا معمول ہے اور شام کو بھی سات بجے اسی کام سے نکلتا ہوں ۔ پچھلے کئی روز سے ایک شخص مجھے سیر کے دوران ملتا ہے اور بڑی محبت سے سلام کرتا ہے ۔میں بھی اسی محبت سے اسے جواب دے دیتا ہوں۔میں اسے نہیں جانتا کہ وہ کون ہے۔ مجھے اس کالونی میں رہتے ہوئے تقریبا" دس سال ہو چکے ہیں اور کم و بیش ہر ملنے والے بندے کو پہچانتا ہوں کہ وہ کون ہے اور کہاں رہتا ہے۔ حلیے سے مجھے وہ کسی بنگلے کا ملازم لگتا ہے۔اکثر بوسیدہ سی پینٹ قمیض میں ملبوس ہوتا ہے اور ماسک لگا کے رکھتا ہے
مجھے بسا اوقات یہ تجسس رہتا ہے کہ یہ کون ہے جو بغیر کسی غرض کے اپنا سلام جاری رکھے ہوئے ہے

کل شام افطار کے بعد جب میں حسب معمول سیر کے لئے نکلا تو کمرشل ایریا سے ذرا آگے وہ مجھے ملا سلام کیا اور ذرا دیر کے لئے رکا۔ مجھے ایسے لگا کہ شاید وہ کوئی بات کرنا چاہ رہا ہے ۔میں رک گیا۔ میں نے پوچھا کیا نام ہے تمہارا۔ کہنے لگا محمد حسین۔میں نے پوچھا کہاں رہتے ہو۔ کہنے لگافلاں نمبر میں ۔ابھی میں سوچ ہی رہا تھا کہ یہ گھر نمبر کس طرف پڑے گا تو وہ پھر بولا کہ ہم لوگ کچھ دنوں میں اپنے گاوں چلے جائیں گے  ۔میں نے پوچھا تمہارا گاوں کدھر ہے۔ اس نے کہا فیصل آباد سےنکل کر جھنگ روڈ پر۔ جھنگ کا نام سن کر میں خیالوں میں کھو گیا۔کیونکہ میرا اپنا ایک تعلق اور رشتہ جھنگ سے ہے۔میرا بچپن اور نوجوانی جھنگ میں ہی گزری ہے

میں نے ساری زندگی گورنمنٹ سروس میں گزاری ہے اور بیسویں گریڈ سے ریٹائر ہونے کے بعد اس کالونی میں رہائش پذیر ہوں۔اپنے آپ کو بڑا زیرک سمجھتا ہوں۔

میں نے اسے پھر غور سے دیکھا۔ اس نے ماسک نیچے کر لیا تھا۔ اس کے ہاتھ میں ایک چھوٹی سی تھیلی تھی اور وہ کچھ کھائے چلا جا رہا تھا  ۔ کھانے کے کچھ ذرات اس کی وراچھوں پر لگے ہوئے تھے۔میں نے پوچھا کہ ہاتھ میں کیا ہے  ۔ کہنے لگا ادھر سے پکوڑے لئے تھے۔ مجھے یہ سمجھ لینے میں کچھ تامل نہ ہوا کہ یہ شخص کسی بنگلے میں ملازم ہے اور وقت بے وقت باہر نکل آتا ہے۔اس کی دماغی حالت بھی مجھے کچھ ٹھیک نہ لگی۔اپنے لباس سے بھی وہ نوکر ہی لگ رہا تھا  میں نے اسے کہا اچھا پھر ملاقات ہو گی اور میں اپنی سیر پر روانہ ہوگیا۔  اور دل میں سوچ لیا کہ کسی دن اس کے بتائے ہوئے گھر پہ جا کر اس کی دماغی حالت کا پوچھوں گا ۔

ابھی میں کوئی ایک کلو میٹر چلا ہوں گا کہ ایک گھر کے باہر مجھے وہ شخص نظر آیا۔ پہلے تو اس نے مین گیٹ کھولنے کی کوشش کی پھر مڑ کر گاڑی جو گیٹ کے باہر کھڑی تھی  اس کے دروازے کو چھیڑا۔ مجھے لگا ہو نہ ہو یہ شخص چوری کی نیت سے یہاں پھر  رہا ہے۔ مجھے دیکھ کر وہ سرعت سے میری طرف آیا اور کہنے لگا سر یہی وہ گھر ہے جہاں میں رہتا ہوں ۔اپنے دو بھائیوں کے ساتھ  اور یہ گاڑی جو باہر کھڑی ہے میری بھابی کی ہے۔ دوسری ہنڈا اندر کھڑی ہے

میں شرمندہ سا ہو کر ہاتھ ملا کر آگے بڑھ گیا کیونکہ وہ شخص میرے گھر سے بڑے گھر میں قیام پذیر تھا سوچنے میں ہم لوگ انتہائی کم ظرف واقع ہوئے ہیں اور ظاہری طور پہ نظر آنے والوں کو حقیر سمجھ لیتے ہیں جبکہ یہ لوگ رب کا روپ لئے پھر رہے ہوتے ہیں



پرویز اے سانکھلا