بابا محمد یحییٰ کی کتاب
پیا رنگ کالا
سے چند اقتباسات
گرفت میں آئی ہوئی مچھلی، دروازے پہ پہنچی ہوئی روزی اور راہ میں پڑا ہوا درویش اگر ہاتھ سے نکل جائیں تو پھر" کار جہاں دراز ہے اب اس کا انتظار کر " اب مصرعہ زیر لب دہرانے کا بڑا لطف آتا ہے
ماں محبوب اور مرقد کی گود بڑی گداز ہوتی ہے۔ مزہ آ جاتا ہے اور حشر تک پڑے رہنے کو جی چاہتا ہے
بچہ بوڑھا ، بیمار اور بدمعاش اول تو سوتے نہیں اور اگر کسی مجبوری یا معذوری سے سو جایئں تو پھر انہیں کوئی جگاتا نہیں کہ ان کا سویا پڑا رہنا ان کے جاگنے سے بدرجہا بہتر اور افضل ہوتا ہے
اصل رشتہ تو باپ کی پشت کا ہوتا ہے ماں کی پشواز کا رشتہ بتاشے کی مانند ہوتا ہے جس سے منہ تو میٹھا ہوتا ہےمگر پیٹ نہیں بھرتا چاہے ٹوکرا بتاشے توڑ لو
درویش وہ ہے جو ہر قسم کی صورت حال درپیش ہونے پہ بیساختہ الحمدللہ کہے اور راضی بہ رضا ہو کر اسے تسلیم کر لے۔جو بھی سر پہ پڑ جائے اسے مشیت ایزدی جانے
جے سوہنا میرے دکھ وچ راضی ، میں سکھ نوں پانواں چلہے
جس مالک و خالق نے مجھے یہ انعام بخشا ہے وہ اس کی پرورش، صحت، زندگی اور میری عمر و بڑھاپے کے بارے میں بھی بہتر جانتا ہے اور خوب اچھے فیصلے کرنے والا ہے
صاحب علت صاحب عزت نہیں ہو سکتا
پیتل سکھ دے تو سونے کا کھوجن کس کارن، سونا پڑا رہے تو مٹی ہے، بندھ جائے تو سنگھار۔ پیٹ پڑے تو روٹی یے۔ سوکھی روٹی کا ایک ٹکڑا سونے کے پہاڑ پہ بھاری ہے۔ اگر بھوک سچی ہو سونے کی سلطنت ایک سانس کے سامنے کوئی حیثیت نہیں رکھتی اگر جان بچتی ہو
ہر وقفہ لقمہ میں الحمدللہ کہنا رازق سے رزق وصول کرنے کی شکر گزاری ہے
اصل کام تو مالک جس حال میں رکھنا پسند کرے اس پر مطمئن رہنا اور اس پر صبرو شکر کرنا ہے
جس علم و ہنر کا استعمال اور اظہار و اثرات اللہ کی مخلوق خاص پہ بنی نوع انسان کے لیے ضرر رساں اور معاشرے میں بگاڑ پیدا کرتے ہوں یا نظام حیات کے کسی شعبے میں غیر متوازن طرز عمل اور نفی طرز فکر کو فروغ دینے میں ممد ثابت ہوتے ہوں ایسے علم و ہنر کے اظہار سے اجتناب برتنا چاہئیے
انسان جب اندر سے سکون پکڑ لیتا ہے تو اسے باہر کی کچھ خبر و خواہش نہیں رہتی
جو رزق پانی،تعلق تصرف صحبت محبت حرکت و عمل علم پیشہ تجارت آپ کو اطمینان قلب۔ ذوق عبادت اور شوق شرافت سے آشنا کرائے وہی اللہ کی مشیت و رضا اس کا اجرو انعام اور فضل و کرم ہے اور جو مشاغل حیات اور اعمال ذات آپ کے اندر تکدر تکبر و تفاخر پیدا کریں اللہ اور اللہ کی مخلوق سے دور اور بیگانہ کر دیں چہرے کا نور دل کا سکون چھین لیں خوف خدا اور شرم و حیا سے بے بہرہ کر دیں وہ سب خدا کا قہر اور عذاب ہیں۔
پرویز اے سانکھلا

No comments:
Post a Comment